بنگلورو،26؍جولائی(ایس او نیوز) شہر بنگلور میں پینے کے پانی کی فراہمی کے لئے کاویری طاس میں آنے والے میکے ڈاٹ پر ڈیم کی تعمیر کے لئے کرناٹک کے منصوبے میں ایک بار پھر تملناڈو کی طرف سے رکاوٹ کھڑی کی جانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ بارہا ریاستی حکومت کی طرف سے واضح کیا جاچکا ہے کہ یہ منصوبہ صرف پینے کے پانی کے لئے تعمیر کیا جارہا ہے۔اس کے قطع نظر تملناڈو کی طرف سے اس کی مخالفت جاری رکھی گئی ہے۔
تملناڈو کے وزیراعلیٰ کے پلانی سوامی نے آج کہاکہ کرناٹک کی طرف سے میکے ڈاٹ میں کسی طرح کا ڈیم تعمیر کرنے کا موقع ہرگز نہیں دیا جائے گا۔ کل وزیر برائے آبی وسائل ڈی کے شیوکمار نے میکے ڈاٹ میں جمع کرناٹک کے حصے کا پانی استعمال کرنے کے متعلق جائزہ لیا اور وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمارسوامی سے مانگ کی کہ میکے ڈاٹ ڈیم کی تعمیر کے لئے فنڈز مختص کئے جائیں ۔ وزیراعلیٰ نے بھی اس پر رضامندی ظاہر کرتے ہوئے فنڈز فراہم کرنے کا وعدہ کیا ، لیکن آج تملناڈو کے وزیر اعلیٰ نے اس ڈیم کی تعمیر کی شدید مخالفت کی اور کہاکہ تملناڈو کی طرف سے اس کا موقع ہرگز نہیں دیا جائے گا۔ اگر کرناٹک نے ڈیم کی تعمیر کی کوشش کی تو اس کے خلاف حکومت تملناڈو کاویری آبی تنازعہ ٹریبونل اور سپریم کورٹ سے رجوع ہوگی۔ یاد رہے کہ چند دن قبل وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمارسوامی نے حکومت تملناڈو کومتنبہ کیا تھا کہ کرناٹک کی طرف سے کاویری طاس پر کسی بھی پراجکٹ کے تعمیر کی وہ مخالفت نہ کرے۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق دونوں ریاستوں کے درمیان کاویری کے پانی کی تقسیم کا جوفارمولہ وضع کیا گیا ہے، اس پر عمل کیاجائے گا لیکن کسی پراجکٹ کی تعمیر میں رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔ حکومت کرناٹک کا یہ استدلال ہے کہ کاویری کا جو پانی سمندر میں بہہ کر ضائع ہوتاہے اس کے استعمال کے لئے یہ پراجکٹ تعمیر کیاجارہا ہے۔ سپریم کورٹ کی طرف سے پانی کے جتنے حصے کا تعین کرناٹک کے حق میں کیاگیا ہے اسی کے تحت یہ پانی استعمال کیا جائے گا۔ پچھلی سدرامیا حکومت نے میکے ڈاٹ میں ڈیم کی تعمیر کا آغازکردیاتھا، اور واضح کردیا تھاکہ یہ ڈیم صرف پینے کے پانی کے لئے تعمیر کیاجارہاہے، اس کے باوجود بھی تملناڈو کی مخالفت برقرار ہے۔